سوشل میڈیا پر مز یہی فرقہ ورانہ فسادات کے بڑھتے رجحان سے سماج سخت پریشان
کوئی دہرائی نہیں ہے کہ ہمارے ملک کے اندر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اس پر سخت کاروائی کرتی ہے۔ لیکن پر عناصر بد معاش کبھی بھی امن اور بھائی چارے کے گلدستوں میں اگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور سوشل میڈیا کو ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ بیشتر لوگ جب یہ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں ظاہری بات ہے جذبات اور احساسات اس جھوٹ کی وجہ سے بکھر جاتے ہیں اور انہیں کافی وقت لگتا سمٹنے میں کیا سوشل میڈیا ہماری خوشیوں کو برباد کرنے کے لیے آیا ہے ہرگز بھی نہیں ہم نے اپنے پچھلے موضوع میں بھی کہا تھا کہ اجادات ٹیکنالوجی کا مسیح استعمال اگر کیا جائے تو یہ فائدے مند سود مند ثابت ہوگا ۔
اگر ان کا غلط استعمال کیا جائے ظاہری بات ہے اس کے برے اثرات پڑھنے کے راستے کھل جاتے ہیں۔ ہم نے نہیں بار دیکھا ہے کہ فسادات کے ذریعے صرف اور صرف آگ کی لگی ہے نقصان ہی ہوا ہے۔ نہ کسی مذہب کو اس سے فائدہ ہوا اور نہ ہی ہوگا ۔ اس لیے ہمیں ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا اور ہر وقت اپنے آپ کو سماج کے لیے پیش پیش رکھتا ہوگا ۔ خاص کر ان کے جدید دور میں جس میں بد عناصر اشخاص کی ہمت بڑھ رہی ہے ۔ وہ فرقہ وارانہ فسادات کو بڑھانے کے لیے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہیں۔ نہ جانے ان لوگوں کو ایسی حرکتوں سے کیا حاصل ہوتا ہے۔ شاید لوگ بے ہے ۔
شاید یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کی وجہ سے بستیاں بر باد ہو جاتی ہیں عصمتیں لٹ جاتی ہے ۔ بھائی عصر حاضر میں سیاست دانوں کو بھی ان چیزوں کا خیال رکھنے کی بے حد ضرورت ہے اور ان چیزوں پر نظر بنائے رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ کیونکہ سیاسی جلسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے جن میں ہر فسادات کئی بار ہوئے ہیں اور بہت سے ملکوں میں ہوتے ہیں۔ لیکن دور حاضر میں ہم اپنے آپ کو تعلیم یافتہ جدید دور ٹیکنالوجی سے لیس سمجھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ایسے معاملات آج کے زمانے میں ہو تو مجھ سے بالاتر ہے۔ جب یہ چیزیں سماج میں ہو تو کسی طرح سے ہم اپنے آپ کو عقلمند سمجھدار اور یافتہ تصور کر سکتے ہیں ۔ اس بات سے تو یہی ثابت ہوتا ہے ہم تعلیم کی از میں یا پھر عقلمندی کی از میں نہ سمجھ نہ فہم اور بے عقل ہے ۔
لہذا اگر ہمیں امن و امان کی زندگی گزر بسر کرتی ہے تو سب سے پہلے اس کی جڑ کو گانا ہوگا ۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلیں مذہب رنگ نسل کے سید ہاؤ یک طرف کر کے چین وسکون کی زندگی گزر بسر کرے اس دنیا میں بہت سے مذاہب سے وابستہ لوگ رہتے ہیں اور ہر مذہب کے رہنماؤں نے پیار محبت امن بھائی چارے سے رہنے کا درس دیا ہے۔ لڑائی جھنگا الفسادات ان چیزوں سے دور رہنے کی تلقین کی ہے تا کہ سماج میں امن قائم رہے ۔
دلوں کو نھیں پہنچانے والوں یا ان کو بگاڑ نے والوں کی اپنے درسوں میں مذمت کی ہے جس کی مثال بھارت دیش کے کہیں علاقوں سے صاف صاف نظر آتی ہے اس سے پہلے ہم نے سوشل میڈیا کے موضوع پر تجھنے کے برابر لکھنے کی کوشش کی تا کہ ہو سکتا ہے پڑھنے والوں کے دلوں میں ان چیزوں کا مول مجھ میں آجائے بہر حال آج کا موضوع بھی سوشل میڈیا کے متعلق ہی ہے جس کے ذریعے مذہبی فرقہ وارانہ فسادات کے کہیں معاملات سامنے آئے ہیں۔ اور ان چیزوں سے سماج کے اندر زی شعور ذی عزت لوگ سخت پریشان نظر آتے ہیں ۔ اس بات میں بھی چارے اور امن کا پیا نہ بکھر جاتا ہے۔
جس طرح ہمارے مذہبی رہنماؤں نے امن اور سکون کو ہی ترجیح دی ہے ۔ اسی طرح ہم لوگوں کو بھی چاہیے کہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلیں سماج میں رہنے والے ہر ایک فرد بشر کے جان مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کتنی مثالیں ہمارے سامنے ہے کیا پھر بھی ہمیں مجھ میں نہیں آتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں ۔ سیاسی سٹیجوں سے میسج اگر جائے تو سونے سہاگہ ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ سیاست دان کسی خاص فرقے کا لیڈر نہیں ہوتا ہے ۔
جس علاقے میں ایسے فسادات رونما ہوتے ہیں وہاں پر زندگی گزر بسر کرنے والے لوگوں کی ذہنی نشونما بھی متاثر ہوتی ہے ان چیزوں کی بھی کہیں مثالیں ہمارے سامنے ہے۔ فرقہ وارانہ میں پیدا ہو جائے ۔ سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والوں پر کڑی نگاہ بنائے رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ سمجھ میں ہندو مسلم شیعه وسنی وغیرہ فسادات جنم لے سکے ہی کوشش کاوش ہم بھی اپنے قلم کے ذریعے اپنے سامعین تک پہنچانے کی اج کی ترقی یافتہ دور میں تعلیم یافتہ دور میں ہمیں سخت رویہ ان عناصر کے خلاف رکھنا چاہیے جن کی وجہ سے ایسی صورت حال سماج کوشش کر رہے ہیں
اللہ تعالی ہم سب کو امن و امان کی زندگی گزارنے کی توفیق عطافرمائے (امین)

